Durood e Taj – Duroodetaj.com / درود تاج
درود تاج
درود تاج، جسے عربی میں صلاۃ التاج کہا جاتا ہے، نبی کریم ﷺ پر بھیجے جانے والے مشہور ترین درودوں میں سے ایک ہے۔ نیچے مکمل تلاوت سنیے، یا اس کی تاریخ اور پڑھنے کے طریقے کے بارے میں پڑھیے۔
روزانہ وظیفہ
-
٧
نماز فجر کے بعد
-
٣
نماز عصر کے بعد
-
٣
نماز عشا کے بعد
یہ سب سے زیادہ مشہور ترتیب ہے، کوئی شرعی حکم نہیں۔ بعض حضرات روزانہ سات بار، یا گیارہ بار، یا چالیس دن تک عشا کے بعد اکتالیس بار پدھتے ہیں۔ جلدی میں چالیس بار پدھنے سے بہتر یہ ہے کہ دن میں ایک بار توجہ کے ساتھ پدھا جائے۔
درود تاج کیا ہے؟
عام طور پر جو درود پڑھے جاتے ہیں وہ مختصر ہوتے ہیں۔ درود ابراہیمی، جو ہر نماز کے تشہد میں پڑھا جاتا ہے، صرف چند سطروں پر مشتمل ہے۔ درود تاج اس سے مختلف ہے: یہ حضور نبی کریم ﷺ کے اوصاف اور القاب کا ایک طویل سلسلہ ہے، جو اپنی ساخت میں قصیدے کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی مکمل تلاوت میں کئی منٹ لگتے ہیں، اور اسے عام طور پر نماز کے اندر نہیں بلکہ روزانہ کے وظیفے کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
اس کا نام اس کی پہلی سطر سے لیا گیا ہے، جس میں حضور ﷺ کو صاحبِ تاج و معراج کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ اس صنف میں کسی وظیفے کا نام اس کے ابتدائی الفاظ پر رکھنا معمول کی بات ہے۔
اسے کس نے لکھا؟
یہ درود عام طور پر شیخ ابوبکر بن سالم رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جو ۱۳ جمادی الثانی ۹۱۹ ہجری (۱۶ اگست ۱۵۱۳ء) کو یمن کے علاقے حضرموت کے شہر تریم میں پیدا ہوئے۔ وہ سلسلۂ باعلوی کے بزرگ تھے۔
اس زمانے میں تریم جنوبی عرب کے بڑے علمی مراکز میں سے ایک تھا۔ وہاں کے سادات باعلوی اپنے شاگردوں کو روزانہ کے اوراد دیا کرتے تھے، اور آج بھی بحر ہند کے گرد بسنے والے مسلمانوں میں پڑھی جانے والی بہت سی کتب و اوراد اسی حلقے سے آئی ہیں۔
یہ بات صاف کہہ دینی چاہیے کہ یہ نسبت مشہور ضرور ہے مگر قطعی طور پر ثابت شدہ نہیں۔ اس دور کے وظائف اکثر نسل در نسل زبانی منتقل ہوتے رہے اور بعد میں لکھے گئے، اس لیے مختلف مخطوطات میں اختلاف ملتا ہے۔
برصغیر تک کیسے پہنچا؟
حضرموت کے علماء اور تاجر موسمی ہواؤں کے راستوں سے گجرات، مالابار، دکن، سری لنکا اور آگے ملایا تک آتے جاتے رہتے تھے۔ حضرمی خاندان ان علاقوں میں آباد ہوئے، مدارس قائم کیے، اور اپنے ساتھ اپنی کتابیں اور اوراد بھی لائے۔ درود تاج انہی راستوں سے برصغیر پہنچا، یہاں اس کے اردو تراجم ہوئے، سستے ایڈیشن چھپے، اور بعد میں اس کی ریکارڈنگ ہوئی۔
فضائل کے بارے میں ایک ضروری بات
درود پڑھنے کا جو فائدہ یقینی اور ثابت شدہ ہے، وہ وہی ہے جو قرآن و حدیث میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب (۳۳:۵۶) میں اہلِ ایمان کو نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے، اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے (صحیح مسلم)۔ یہ اجر ہر درود کے ساتھ ہے، خواہ اس کے الفاظ کچھ بھی ہوں۔
اس کے علاوہ درود تاج کے بارے میں جو مخصوص فضائل بیان کیے جاتے ہیں — دل کی صفائی، رزق میں برکت، سحر اور حسد سے حفاظت، غم کا دور ہونا، بلاؤں کا ٹلنا، اور خواب میں زیارتِ نبوی ﷺ — یہ روایات اور منقولات ہیں، احادیث نہیں۔ بزرگوں کی ایک بڑی تعداد نے انہی کی بنیاد پر اسے اپنے معمولات میں شامل کیا، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی ضمانت نہیں ہے۔
صحیح رویہ وہی ہے جو ان بزرگوں کا تھا: اسے حضور ﷺ کی محبت میں اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں پڑھیے۔ اس کے علاوہ اللہ جو عطا فرمائے، وہ اس کی مہربانی ہے — کسی گنتی کے بدلے میں نہیں۔
کیا یہ حدیث میں ہے؟
نہیں۔ درود تاج ایک تصنیف کردہ درود ہے، جو حضور ﷺ کے تقریباً نو صدیوں بعد لکھا گیا۔ یہ آپ ﷺ سے مروی نہیں ہے۔ درود بھیجنے کا حکم قطعی ہے، لیکن یہ مخصوص الفاظ بعد کی علمی تصنیف ہیں — جیسے دلائل الخیرات، صلاۃ الفاتح اور قصیدہ بردہ شریف۔ بعض عبارات کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف بھی رہا ہے۔ اپنے معمول کے لیے کوئی فیصلہ کرنا ہو تو کسی معتبر عالم سے رجوع کیجیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
درود تاج کیا ہے؟
درود تاج، جسے عربی میں صلاة التاج کہا جاتا ہے، نبی کریم ﷺ پر بہیجے جانے والے مشہور ترین درودوں میں سے ایک ہے۔ برصغیر میں یہ خاص محبت سے پڈھا جاتا ہے۔
درود تاج کس نے لکھا؟
یہ درود عام طور پر شیخ ابوبکر بن سالم رحمہ اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جو ے١٩ ہجری (١٥١٣ء) میں یمن کے شہر تریم میں پیدا ہوئے۔ یہ درود حضرمی علما اور تاجروں کے ذریعے برصغیر تک پہنچا۔
کیا درود تاج قرآن یا حدیث میں ہے؟
نہیں۔ درود تاج ایک تصنیف کردہ درود ہے، جو حضور ﷺ کے تقریباً نو صدیوں بعد لکھا گیا۔ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا قرآن کا حکم ہے (سورہ الاحزاب ٣٣:٥٦)، لیکن یہ مخصوص الفاظ بعد کی علمی تصنیف ہے، جیسے دلائل الخیرات اور قصیدہ بردہ شریف۔
درود تاج کتنی بار پدھنا چاہیے؟
کوئی مقرر تعداد لازم نہیں۔ سب سے زیادہ مشہور ترتیب یہ ہے: فجر کے بعد سات بار، عصر کے بعد تین بار اور عشا کے بعد تین بار۔ یہ اساتذہ کی ترتیب ہے، شرعی حکم نہیں۔ دن میں ایک بار توجہ کے ساتھ پدھنا چالیس بار جلدی میں پدھنے سے بہتر ہے۔
کیا وضو کے بغیر درود تاج پدھا جا سکتا ہے؟
جی ہاں۔ وضو افضل ہے لیکن درود پدھنے کے لیے شرط نہیں۔ چونکہ یہ قرآن نہیں بلکہ ایک تصنیف کردہ درود ہے، اس لیے ایام میں بھی پدھا جا سکتا ہے۔
کیا آژیو مفت چیز ہے؟
جی ہاں۔ پوری تلاوت سننا، ڈاؤن لوژ کرنا اور آگے شیر کرنا بالکل مفت ہے۔ اس سائٹ پر کوئی اشتہار نہیں، کوئی رجسٹریشن نہیں اور کوئی ایپ نہیں۔
Last updated September 5, 2026.